علم تجوید

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - قرآن مجید کی تلاوت میں حروف کو ان کے صحیح مخرج سے ادا کرنے کا علم، علم قرات۔ "علم ادب کی ایک شاخ ہے جو بالتخصیص قرآن مجید کی عبارت سے علاقہ رکھتی ہے اور جس کا نام علم تجوید ہے۔"      ( ١٨٧٠ء، خطبات احمدیہ، ٤٣٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'علم' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر عربی سے اسم 'تجوید' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٧٠ء کو "خطبات احمدیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قرآن مجید کی تلاوت میں حروف کو ان کے صحیح مخرج سے ادا کرنے کا علم، علم قرات۔ "علم ادب کی ایک شاخ ہے جو بالتخصیص قرآن مجید کی عبارت سے علاقہ رکھتی ہے اور جس کا نام علم تجوید ہے۔"      ( ١٨٧٠ء، خطبات احمدیہ، ٤٣٩ )

جنس: مذکر